واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے پیچھے کئی ہفتوں پر مشتمل سفارتی کوششیں کارفرما تھیں جن میں پاکستان نے بطور سہولت کار کردار ادا کیا جبکہ چین نے پسِ پردہ اور خاموش مگر مؤثر کردار ادا کیا۔
سی این این کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ یہ جنگ بندی ایک منظم اور طویل سفارتی عمل کا نتیجہ ہے جس میں فریقین کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوششیں شامل تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ چین نے ابتدا سے ہی دونوں فریقوں کو تحمل اور صبر اختیار کرنے کی تلقین کی اور سفارت کاری کے لیے جگہ دینے پر زور دیا، جس نے صورتحال کو بہتر بنانے میں مدد دی۔
سفیر کے مطابق پاکستان نے اس عمل میں مرکزی کردار کے بجائے ایک سہولت کار کا کردار ادا کیا اور تمام فریقین کے درمیان رابطے برقرار رکھنے میں مدد دی۔ انہوں نے کہا کہ خفیہ اور محتاط سفارت کاری اس پورے عمل کی کامیابی کی ایک اہم وجہ رہی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے خلیجی ممالک خصوصاً سعودی عرب اور دیگر خلیجی تعاون کونسل کے ممالک سے بھی مشاورت کی، اور خطے میں موجود پاکستانی تارکین وطن کی بڑی تعداد بھی اس سفارتی روابط کی ایک اہم وجہ ہے۔
اسی دوران امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد پاکستان بھیجا جا رہا ہے تاکہ جنگ بندی کے بعد باضابطہ مذاکرات شروع کیے جا سکیں۔
سفیر نے امید ظاہر کی کہ علاقائی اور عالمی تعاون کے ذریعے یہ عارضی جنگ بندی ایک وسیع اور پائیدار امن میں تبدیل ہو سکتی ہے، جس کے مثبت اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت پر بھی پڑیں گے۔