30°C Storm

بلوچستان حکومت کا تعلیمی نظام بہتر بنانے کا بڑا اقدام، 900 اسکولوں میں ڈبل شفٹ اور یونیفارم لازمی شرط ختم کرنے کی منظوری

بلوچستان حکومت نے صوبے میں شرح خواندگی بڑھانے اور تعلیمی معیار بہتر بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر تعلیمی اصلاحات کی منظوری دے دی ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں تعلیم، صحت اور امن و امان کے شعبوں میں وسیع اصلاحات پر اتفاق کیا گیا، جنہیں آئندہ مالی سال کے بجٹ میں شامل کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پرائمری سطح پر اسکول یونیفارم کی لازمی شرط ختم کی جائے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو تعلیم کی جانب راغب کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ پرائمری اسکولوں کو “جینڈر فری” قرار دینے کی تجویز بھی منظور کی گئی، جس کے تحت لڑکے اور لڑکیاں ایک ہی اسکول میں بنیادی تعلیم حاصل کر سکیں گے۔ حکام کے مطابق اس پالیسی کو جلد صوبائی کابینہ کے آئندہ اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

شرح خواندگی میں اضافے کے لیے صوبے بھر کے 900 اسکولوں میں ڈبل شفٹ تدریس شروع کرنے کی منظوری دی گئی ہے، جبکہ سرکاری اسکولوں میں یکساں نصابی مطالعہ اور تحریری مواد متعارف کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ مزید برآں، آئندہ سال تک 3 ہزار ایک کمرہ اسکولوں میں اضافی کلاس رومز تعمیر کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے تاکہ تعلیمی سہولیات کو بہتر بنایا جا سکے۔

چیف سیکریٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ این سی ایچ ڈی اساتذہ، جو کئی برسوں سے مقررہ تنخواہوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں، ان کی تنخواہوں میں نمایاں اضافے کی منظوری بھی دی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے سرکاری اسکولوں میں “چٹائی کلچر” ختم کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ہر طالب علم کو ڈیسک فراہم کیا جائے اور دور دراز علاقوں کے اسکولوں کی اچانک نگرانی کے ذریعے اصلاحات پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔