32°C Sunny

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، پاکستان کا درآمدی بل 8 سے 9 ارب ڈالر بڑھنے کا خدشہ

اسلام آباد: عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث پاکستان کے درآمدی بل میں 8 سے 9 ارب ڈالر تک اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے ملک کے معاشی اور مالیاتی دباؤ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، جس سے پاکستان کے بیرونی کھاتوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق خام تیل کی عالمی قیمت تقریباً 109 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے جبکہ دبئی بینچ مارک 135 ڈالر کے قریب ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان میں درآمدی لاگت بڑھ کر 145 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہوئی جب روس نے اپریل سے جولائی تک پٹرول کی برآمدات عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا، جس سے عالمی سپلائی مزید محدود ہونے کا خدشہ ہے۔

حکومت نے اب تک عوام کو ریلیف دینے کے لیے 125 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی ہے تاکہ مقامی سطح پر ایندھن کی قیمتوں کو مستحکم رکھا جا سکے، تاہم ماہرین کے مطابق یہ پالیسی طویل مدت تک برقرار رکھنا مشکل ہوگا۔

ماہرین نے تجویز دی ہے کہ حکومت کو مربوط معاشی پالیسی اپناتے ہوئے قیمتوں میں جزوی اضافہ کرنا چاہیے جبکہ کم آمدنی والے طبقے، موٹر سائیکل، رکشہ اور پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے ٹارگٹڈ ریلیف فراہم کیا جائے۔

معاشی ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستان کا مجموعی آئل امپورٹ بل تقریباً دوگنا ہونے کے خطرے سے دوچار ہے، جس سے مہنگائی اور مالیاتی خسارہ مزید بڑھ سکتا ہے۔

وفاق اور صوبائی حکومتوں کے درمیان ریلیف کے اخراجات کی تقسیم پر تاحال اتفاق رائے نہیں ہو سکا، جبکہ آئندہ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں اہم فیصلوں کی توقع کی جا رہی ہے۔