28°C Sunny

خلیجی کشیدگی کے دوران گوادر پھر عالمی توجہ کا مرکز، کیا پاکستان اس بار موقع سے فائدہ اٹھا پائے گا؟

خلیجی خطے میں حالیہ جغرافیائی و سیاسی کشیدگی اور امریکہ کی قیادت میں ہونے والی پیش رفت نے ایک بار پھر گوادر کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے، جس کے بعد یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ آیا پاکستان اس موقع کو مستقل معاشی اور اسٹریٹجک فائدے میں بدل سکے گا یا ماضی کی طرح ایک اور سنہری موقع ضائع ہو جائے گا۔ 1958 میں عمان سے حاصل کیا جانے والا گوادر آج پاکستان کے لیے نہ صرف ایک اہم بحری دفاعی اثاثہ سمجھا جاتا ہے بلکہ مستقبل کے معاشی گیٹ وے کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے، جو مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا اور چین کو آپس میں جوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق بندرگاہ، ایئرپورٹ توسیع اور سیکیورٹی انفراسٹرکچر پر کام جاری ہے، تاہم شہری گوادر اب بھی زمین کے تنازعات، کمزور انتظامی ڈھانچے، بنیادی سہولیات کی کمی اور سرمایہ کاروں کے عدم اعتماد جیسے مسائل کا شکار ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شفاف پالیسی، زمینوں کا ڈیجیٹل ریکارڈ اور مؤثر حکومتی نگرانی گوادر کی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔

Just In
27-10-2026
بلوچستان میں کامیاب مذاکرات، تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال ختم بلوچستان میں نیب کی بڑی کارروائی، دس لاکھ ایکڑ سے زائد زمین واگزار آئی ایف سی اور سندھ حکومت کا ڈیجیٹل انفراسٹرکچر و قابل تجدید توانائی میں تعاون پر اتفاق – انسانی ترقی اور سرمایہ کاری کے فروغ پر توجہ پاکستان نے امریکا سے 10 ارب ڈالر ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سہولت مانگ لی – وزیر خزانہ کا ٹریژری حکام سے مذاکرات جاری ہونے کی تصدیق اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز کمیٹی کی پاور سیکٹر معاہدے اور پی این ایس سی بورڈ تقرریوں کی منظوری بلوچستان میں جمعہ کو تمام سرکاری دفاتر کھلے رکھنے کا فیصلہ علامہ اقبال کی 88ویں برسی ملک بھر میں عقیدت و احترام سے منائی جا رہی ہے ظفر مسعود کا ویلفیئر جی ڈی پی فریم ورک پیش – معاشی ترقی کو عوامی آمدن، قوت خرید اور غربت پر مبنی اشاریوں سے جانچنے کی تجویز بلوچستان میں دہشت گردی مقدمات کی کم سزا یابی کی وجہ ججز کو دھمکیاں قرار – ہوم وزیر نے عدالتی تحفظ کیلئے اقدامات کا اعلان بلوچستان میں دہشت گردی کے خاتمے تک سیکیورٹی آپریشن جاری رکھنے کا اعلان