پاکستان اور تاجکستان نے کاسا-1000 علاقائی بجلی منصوبے سے متعلق باقی ماندہ تجارتی اور آپریشنل معاملات کو حتمی شکل دینے کے لیے رواں ماہ استنبول میں مشترکہ ورکنگ گروپ (جے ڈبلیو جی) کا اجلاس منعقد کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ پیش رفت دوشنبے میں پاکستان اور تاجکستان کے درمیان تجارت، اقتصادی اور سائنسی و تکنیکی تعاون سے متعلق مشترکہ کمیشن کے آٹھویں اجلاس کے بعد سامنے آئی۔
اجلاس کی مشترکہ صدارت پاکستان کے وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری اور تاجکستان کے وزیر توانائی و آبی وسائل جمعہ دلیر شوفاقیر نے کی۔ مشترکہ اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک نے کاسا-1000 منصوبے پر ہونے والی پیش رفت کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ باقی ماندہ امور جلد مکمل کیے جائیں تاکہ منصوبہ بروقت فعال ہو سکے۔ اس منصوبے کے تحت دونوں ممالک موسمی ضروریات کے مطابق اضافی بجلی کا تبادلہ کریں گے، جس سے توانائی کی قلت پر قابو پانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
مذاکرات کے دوران دونوں ممالک نے تجارت، توانائی، زراعت، صنعت، صحت، تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی، سیاحت اور علاقائی رابطوں کے فروغ پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ پاکستان اور تاجکستان نے دوطرفہ تجارت بڑھانے کے لیے کاروباری وفود، بزنس ٹو بزنس ملاقاتوں اور آن لائن کاروباری روابط کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ تجارت کو 20 کروڑ ڈالر تک لے جانے کے لیے تین سالہ روڈ میپ تیار کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
دونوں ممالک نے زرعی تعاون، اعلیٰ پیداوار دینے والی فصلوں کی منتقلی، براہ راست پروازوں کے آغاز اور ویزا سہولتوں کو بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ حکام کے مطابق پاکستان اور تاجکستان کے درمیان ہونے والے یہ معاہدے خطے میں توانائی، تجارت اور اقتصادی روابط کو مزید مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔