30°C Sunny

بلوچستان میں مدارس کے خلاف کارروائی کا کوئی منصوبہ نہیں، وزیراعلیٰ بگٹی

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ مدارس کے خلاف کارروائی سے متعلق پھیلائی جانے والی خبریں بے بنیاد اور غلط معلومات پر مبنی ہیں، اور حکومت کا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت دینی مدارس کی ترقی اور بہتری کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ ان کے مطابق پارلیمنٹ نے مدارس رجسٹریشن ایکٹ منظور کر لیا ہے اور اب اسے بلوچستان اسمبلی میں بھی پیش کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ تمام معاملات کو اتفاق رائے سے حل کیا جائے گا اور صوبائی اسمبلی میں مشاورت کے ذریعے قانون سازی کی جائے گی تاکہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا تنازع سے بچا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیم اور دینی اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے اور مدارس کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

اس سے قبل وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں تعلیم کے فروغ کے لیے “بُک وہیکلز” اور “سائنس آن وہیلز” کے منصوبوں کو بھی سراہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات بچوں کو تعلیم سے جوڑنے اور تعلیمی سرگرمیوں میں دلچسپی بڑھانے کا باعث بن رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موبائل اسکولز اب متحرک لائبریریوں اور جدید سائنس لیبارٹریوں میں تبدیل ہو چکے ہیں جو دور افتادہ علاقوں میں علمی شعور، سائنسی سوچ اور تحقیق کے رجحان کو فروغ دے رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ کے مطابق ایسے تخلیقی اور مثبت اقدامات بلوچستان کے روشن اور تعلیم یافتہ مستقبل کی ضمانت ہیں اور ان سے صوبے میں تعلیمی معیار مزید بہتر ہوگا۔