پاکستان نے نور خان ایئربیس پر ایرانی فوجی طیاروں کی موجودگی سے متعلق امریکی میڈیا رپورٹ کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے گمراہ کن اور سنسنی خیز قرار دیا ہے۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کی رپورٹ حقائق کے برعکس ہے اور ایسی خبریں خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
وزارت خارجہ کے مطابق ایران اور امریکہ کے چند طیارے جنگ بندی اور اسلام آباد مذاکرات کے ابتدائی مرحلے کے بعد سفارتی عملے، سیکیورٹی ٹیموں اور انتظامی اسٹاف کی نقل و حرکت کے لیے پاکستان آئے تھے۔
بیان میں کہا گیا کہ بعض طیارے آئندہ سفارتی رابطوں کی توقع میں عارضی طور پر پاکستان میں موجود رہے، تاہم ان کا کسی فوجی حکمت عملی یا دفاعی انتظام سے کوئی تعلق نہیں۔
دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ ایرانی وزیر خارجہ کے دورۂ اسلام آباد سمیت مختلف سفارتی سرگرمیوں کے لیے معمول کے انتظامی اور لاجسٹک تعاون کی فراہمی کی گئی تھی۔
وزارت خارجہ نے کہا کہ ایرانی طیاروں کی موجودگی کو کسی فوجی مقصد سے جوڑنا قیاس آرائی، گمراہ کن تشریح اور زمینی حقائق سے مکمل طور پر متصادم ہے۔
پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کے فروغ اور امن و استحکام کے لیے غیر جانبدار اور ذمہ دار سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہے گا۔
یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی جب سوشل میڈیا اور بعض بین الاقوامی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران کے کچھ طیارے نور خان ایئربیس پر موجود ہیں۔