30°C Storm

گوادر میں 10 ارب ڈالر کی سعودی آئل ریفائنری منصوبہ دوبارہ زیر غور، پاکستان نے بڑا قدم اٹھا لیا

پاکستان نے گوادر میں 10 ارب ڈالر مالیت کی سعودی آئل ریفائنری کے قیام کے منصوبے کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے سعودی عرب سے باضابطہ درخواست کی ہے۔ حکام کے مطابق گوادر پورٹ پر حالیہ مہینوں میں تجارتی سرگرمیوں اور بحری آمدورفت میں نمایاں اضافے کے بعد حکومت توانائی اور میری ٹائم انفراسٹرکچر میں نئی سرمایہ کاری کے حصول کے لیے سرگرم ہو گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق گوادر پورٹ پر حالیہ عرصے میں ٹرانزٹ اور ٹرانس شپمنٹ سرگرمیوں میں تقریباً 30 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد پاکستانی حکام بندرگاہ کو خطے کے ایک اہم تجارتی و توانائی مرکز کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اسی تناظر میں وزارت بحری امور اور متعلقہ حکام نے پاکستان۔سعودی مشترکہ بزنس کونسل کے چیئرمین منصور بن محمد السعود اور دیگر سعودی نمائندوں کے ساتھ ایک آن لائن اجلاس میں مختلف سرمایہ کاری منصوبے پیش کیے، جن میں گوادر میں آئل ریفائنری کا منصوبہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

پاکستان نے سعودی عرب کو کراچی پورٹ پر ایل این جی (LNG) اور ایل پی جی (LPG) ٹرمینلز کے قیام میں سرمایہ کاری کی بھی دعوت دی ہے، جبکہ سعودی عرب نے پیٹروکیمیکل کمپلیکس کے قیام میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ حکام کے مطابق اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل (SIFC) سعودی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مختلف رکاوٹوں کو دور کرنے پر کام کر رہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ 2019 میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کے دوران 20 ارب ڈالر کی ممکنہ سرمایہ کاری کا اعلان کیا گیا تھا، جس میں 10 ارب ڈالر کی گوادر آئل ریفائنری بھی شامل تھی، تاہم یہ منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔ اب حکومت کو امید ہے کہ بہتر علاقائی صورتحال اور مضبوط دوطرفہ تعلقات کے باعث اس منصوبے کو دوبارہ فعال کیا جا سکے گا، جو پاکستان کے توانائی شعبے اور گوادر کی معاشی ترقی کے لیے ایک بڑی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔