30°C Storm

بجٹ سے پہلے بڑے فیصلوں کی تیاری، سیکیورٹی، توانائی اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے کی منظوری متوقع

وفاقی بجٹ 2026-27 سے قبل اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اہم اجلاس ہفتے کے اختتام پر طلب کر لیا گیا ہے، جس میں مختلف وزارتوں، ترقیاتی منصوبوں، سیکیورٹی اقدامات اور توانائی کے شعبے سے متعلق اربوں روپے کی مالی تجاویز اور اضافی گرانٹس کا جائزہ لیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں ہونے والے فیصلے آئندہ بجٹ کی مالی ترجیحات اور ترقیاتی حکمت عملی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

اجلاس کے ایجنڈے میں پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) پروگرام کے تحت 7 ارب روپے سے زائد کی گرانٹ کی تجویز شامل ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان لینڈ پورٹس اتھارٹی کے لیے 52 کروڑ 80 لاکھ روپے جبکہ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کے لیے اضافی 15 کروڑ روپے کی منظوری پر بھی غور کیا جائے گا۔ سیکیورٹی معاملات کے تحت ریکوڈک منصوبے سے متعلق ادائیگیوں کے لیے 41 کروڑ روپے سے زائد جبکہ اسلام آباد امن مذاکرات کے سیکیورٹی انتظامات کے لیے 69 کروڑ روپے کی رقم بھی ایجنڈے کا حصہ ہے۔

ذرائع کے مطابق کراچی اور حیدرآباد پیکیج کے تحت ترقیاتی فنڈز کی منتقلی اور خیبرپختونخوا میں خصوصی پروگرام فنڈز کی ازسرنو تقسیم سے متعلق تجاویز بھی اجلاس میں زیر غور آئیں گی۔ اس کے ساتھ پاکستان منٹ (ٹکسال) کی اپ گریڈیشن کے لیے ایک ارب 30 کروڑ روپے کی تجویز کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

توانائی کے شعبے میں پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) کے لیے مالی سہولت اور آئل ریفائنری اپ گریڈیشن منصوبے سے متعلق معاہدے پر بھی غور متوقع ہے۔ حکام کے مطابق مختلف وزارتوں کے لیے اضافی گرانٹس اور مالی منظوریوں کا مقصد وفاقی بجٹ پیش ہونے سے قبل اہم ترقیاتی اور مالیاتی معاملات کو حتمی شکل دینا ہے۔