اسلام آباد، پاکستان میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پروگرام میں مزید 11 شرائط شامل کر دی ہیں، جس کے بعد مجموعی شرائط کی تعداد 75 تک پہنچ گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق نئی شرائط میں آئندہ وفاقی بجٹ کی پارلیمانی منظوری، توانائی کی قیمتوں میں اصلاحات، ٹیکس نظام کی بہتری، سرکاری خریداری کے قواعد میں تبدیلی اور خصوصی اقتصادی و ٹیکنالوجی زونز کے قوانین میں ترامیم شامل ہیں۔
حکام کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ مالی سال 2026-27 کا بجٹ معاہدے کے مطابق منظور کیا جائے گا اور مالی نظم و ضبط کو برقرار رکھا جائے گا۔ اس کے علاوہ معیشت میں غیر ضروری اخراجات کم کرنے اور ترقی کے اہداف کو محدود رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف حکام سے ملاقات میں بتایا کہ حکومت مالی استحکام اور اصلاحات کے لیے پرعزم ہے۔ ماہرین کے مطابق بڑھتی ہوئی شرائط پاکستان کے معاشی فیصلوں اور پالیسی سازی پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہیں۔