31°C Storm

عالمی بینک خیبر پاس منصوبے تاخیر تشویش ظاہر کی ہے

عالمی بینک نے 460.6 ملین ڈالر مالیت کے خیبر پاس اکنامک کوریڈور منصوبے میں مسلسل تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ پاکستان نے منصوبے کی تکمیل کے لیے 36 ماہ کی توسیع اور بڑے پیمانے پر ری اسٹرکچرنگ کی درخواست کی ہے۔ یہ منصوبہ 2018 میں منظور ہوا تھا جس کا مقصد پشاور اور طورخم کے درمیان رابطے کو بہتر بنانا اور خطے میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا تھا، تاہم تقریباً آٹھ سال گزرنے کے باوجود پشاور۔طورخم ایکسپریس وے پر عملی تعمیراتی کام شروع نہیں ہو سکا۔

ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق منصوبے کی مجموعی ترقیاتی مقصد کی درجہ بندی “موڈریٹلی ان سیٹسفیکٹری” جبکہ عملدرآمد کی صورتحال میں بہتری کے باوجود خدشات برقرار ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ منصوبے کے لیے مختص 437.84 ملین ڈالر میں سے صرف 4.41 ملین ڈالر استعمال ہوئے ہیں جو کہ تقریباً 1.01 فیصد بنتا ہے، جو انتہائی کم پیش رفت کو ظاہر کرتا ہے۔

حکومتی دستاویزات کے مطابق کنسٹرکشن ورک کے لیے پروکیورمنٹ دوبارہ شروع کی جا رہی ہے اور مئی 2026 کے آخر تک بولیاں طلب کرنے کا منصوبہ ہے۔ منصوبے کے تحت پہلے سے تیار کیے گئے کئی ذیلی اقدامات مکمل ہو چکے ہیں جن میں گریٹر پشاور ماسٹر پلان، جمروڈ اور لنڈی کوتل کے ترقیاتی منصوبے اور بارڈر بزنس زون سے متعلق فزیبلٹی اسٹڈیز شامل ہیں۔

ورلڈ بینک نے ماحولیاتی، سماجی اور اسٹیک ہولڈر رسک کو “ہائی” قرار دیا ہے جبکہ مجموعی رسک پروفائل “سبسٹینشل” ہے۔ پاکستان کی درخواست پر اب بینک منصوبے کی مدت اور دائرہ کار پر نظرثانی کر رہا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف علاقائی تجارت بہتر ہوگی بلکہ افغانستان کے ساتھ سرحدی رابطہ بھی مضبوط ہوگا۔