پنجاب پولیس نے “سیف پنجاب ویژن” کے تحت جدید خطوط پر اصلاحات اور تربیتی نظام کو وسعت دیتے ہوئے دیگر صوبوں کے افسران کو بھی پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنے کا آغاز کر دیا ہے تاکہ بین الصوبائی رابطہ کاری اور جرائم کے خلاف مؤثر حکمت عملی کو فروغ دیا جا سکے۔
آئی جی پنجاب عبدالكریم کے مطابق اس پروگرام کے تحت بلوچستان پولیس کے 35 نئے تعینات ڈپٹی سپرنٹنڈنٹس آف پولیس (ڈی ایس پیز) کو خصوصی تربیت کے لیے مرکزی پولیس آفس لاہور میں مدعو کیا گیا، جہاں انہیں جدید پولیسنگ، اسمارٹ ٹیکنالوجی، کرائم کنٹرول اور عوامی خدمات کی فراہمی کے نظام سے آگاہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے اور یہ ماڈل دیگر صوبوں کے لیے بھی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ تربیتی دورے کے دوران افسران نے پنجاب پولیس کے انفراسٹرکچر، آپریشنز، تفتیشی نظام اور ٹریفک مینجمنٹ کے نظام کو سراہا۔
آئی جی پنجاب نے کہا کہ افسران کے لیے فیلڈ ورک کے ساتھ ساتھ انتظامی مہارتیں بھی انتہائی ضروری ہیں اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے جرائم میں واضح کمی لائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے زیر تربیت افسران کو ہدایت دی کہ وہ اپنی تربیت مکمل لگن کے ساتھ مکمل کریں تاکہ مستقبل میں بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔
دورے کے دوران وفد نے پولیس میوزیم، شہداء کی یادگار اور مختلف آپریشنل شعبہ جات کا بھی معائنہ کیا۔
دوسری جانب پنجاب پولیس نے صوبے بھر میں منظم جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کارروائیوں میں 2 ہزار سے زائد گینگز کے 5 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا ہے جبکہ اربوں روپے مالیت کی چوری شدہ جائیداد، گاڑیاں، موبائل فونز، مویشی اور اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے۔
آئی جی پنجاب نے واضح کیا کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی تاکہ امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔