کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (QCCI) کے صدر حاجی محمد ایوب مریانی نے کہا ہے کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے باعث گوادر پورٹ کی عالمی اہمیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اسلام آباد میں تاجروں کے ایک اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور خطے میں موجود وسیع تجارتی مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کی۔
صدر QCCI نے گوادر سے فیری سروس کے آغاز کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے اندرون ملک اور بین الاقوامی تجارت کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ N-250 رمضان-گوادر بزنس کوریڈور اور مارکیٹ کے اوقات کار 18 گھنٹوں سے بڑھا کر 24 گھنٹے کیے جائیں تاکہ تجارتی سرگرمیاں بلا تعطل جاری رہ سکیں۔
انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک، وسطی ایشیائی ریاستیں اور دیگر علاقائی ممالک گوادر کے ذریعے تجارت میں دلچسپی رکھتے ہیں، جبکہ متعدد کمپنیاں پہلے ہی اس حوالے سے چیمبر سے رابطے میں ہیں۔
حاجی محمد ایوب مریانی نے گوادر کو TIR سسٹم میں شامل کرنے، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی اجازت دینے اور ایرانی سرمایہ کاروں کے لیے ٹرانس شپمنٹ سہولیات فراہم کرنے کی بھی تجویز دی، تاکہ خطے میں تجارتی سرگرمیوں کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
QCCI کے مطابق یہ تجاویز گوادر اور بلوچستان کو علاقائی تجارت کا مرکزی مرکز بنانے کے لیے اہم ہیں اور ان پر فوری پالیسی اقدامات کی ضرورت ہے۔