اسلام آباد: پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان اہم امن مذاکرات سے قبل وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی انتہائی سخت کرتے ہوئے ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کر دیا ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں غیر ملکی وفود کی سیکیورٹی کے لیے فول پروف انتظامات کی ہدایت جاری کی گئی جبکہ وزارت داخلہ میں خصوصی کنٹرول روم بھی قائم کر دیا گیا ہے۔
یہ مذاکرات اس دو ہفتوں کی جنگ بندی کو مستقل امن میں تبدیل کرنے کی کوشش ہیں جو ۸ اپریل کو پاکستان کی سفارتی کاوشوں کے نتیجے میں عمل میں آئی۔
یہ پیش رفت ۲۸ فروری کو شروع ہونے والی شدید جنگ کے بعد سامنے آئی، جس میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں اور ایران کی جوابی کارروائیوں نے خطے کو بڑے تنازع کے دہانے پر پہنچا دیا تھا۔
جنگ کے دوران دو ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر کے عالمی توانائی سپلائی کو شدید متاثر کیا۔
امریکہ کی جانب سے ۱۵ نکاتی تجویز پیش کی گئی ہے جس میں ایران کے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائل صلاحیت اور پابندیوں میں نرمی جیسے نکات شامل ہیں۔
دوسری جانب ایران نے ۱۰ نکاتی منصوبہ پیش کیا ہے جس میں آبنائے ہرمز پر کنٹرول، فوجی کارروائیوں کا خاتمہ اور تمام پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ہفتے کو ہونے والے مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے جبکہ ایرانی وفد کی قیادت محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کریں گے۔
مذاکرات سے قبل اسلام آباد اور راولپنڈی میں ۹ اور ۱۰ اپریل کو تعطیلات کا اعلان کیا گیا اور تعلیمی ادارے و دفاتر بند رکھے گئے تاکہ سیکیورٹی انتظامات کو یقینی بنایا جا سکے۔
عالمی توجہ اس وقت اسلام آباد پر مرکوز ہے جہاں یہ مذاکرات مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔