اسلام آباد: امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے، تاہم دونوں جانب سے جنگ بندی برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مذاکرات کے بعد کہا کہ واشنگٹن نے اپنی حتمی تجویز پیش کر دی ہے اور اب تہران کے جواب کا انتظار ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران نے تعمیری تجاویز دیں، تاہم اعتماد کا فقدان بڑی رکاوٹ رہا۔
رپورٹس کے مطابق اہم اختلافات آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور ایران کے جوہری پروگرام، خصوصاً یورینیم افزودگی کے حق پر رہے۔
پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے زور دیا کہ دونوں ممالک جنگ بندی برقرار رکھیں اور مذاکراتی عمل جاری رکھیں، پاکستان آئندہ بھی سہولت کاری جاری رکھے گا۔
یورپی یونین، روس اور دیگر عالمی رہنماؤں نے بھی سفارتکاری جاری رکھنے پر زور دیا، جبکہ ولادیمیر پوتن نے مذاکراتی عمل میں تعاون کی پیشکش کی۔
برطانوی وزیر ویز سٹریٹنگ اور آسٹریلوی وزیر خارجہ پینی وونگ نے بھی کہا کہ ناکامی کے باوجود مذاکرات جاری رکھنا ضروری ہے تاکہ مستقل امن کی راہ ہموار ہو سکے۔