30°C Sunny

بلوچستان حکومت اور اسٹیٹ لائف کا بڑا ہیلتھ انشورنس پروگرام معاہدہ

بلوچستان حکومت نے اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن پاکستان (SLIC) کے ساتھ ایک اہم معاہدہ کر کے “پیپلز ہیلتھ پروگرام” کے نام سے صوبہ گیر ہیلتھ انشورنس اسکیم شروع کر دی ہے، جس کے تحت 3 لاکھ 50 ہزار سے زائد سرکاری ملازمین، پنشنرز اور ان کے اہل خانہ کو کیش لیس طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

معاہدے پر دستخط کی تقریب میں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ اور اسٹیٹ لائف کے سی ای او شعیب جاوید حسین سمیت اہم شخصیات نے شرکت کی۔ معاہدے پر محکمہ صحت بلوچستان کے سیکریٹری مجیب الرحمٰن پنیزئی اور اسٹیٹ لائف کے ہیلتھ اینڈ ایکسیڈنٹ انشورنس ڈویژن کے محمد عشار نے دستخط کیے۔

صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ یہ پروگرام ایک مکمل ڈیجیٹل اور کیش لیس نظام کے تحت چلایا جائے گا، جس کے ذریعے روایتی ری ایمبرسمنٹ سسٹم ختم کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس نظام کے تحت مریضوں کو ملک بھر کے 1000 سے زائد سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں فوری اور معیاری علاج کی سہولت حاصل ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے سے نہ صرف انتظامی کارکردگی بہتر ہوگی بلکہ حکومت کے اخراجات میں بھی نمایاں کمی آئے گی، جبکہ مریضوں کو علاج میں تاخیر کے بغیر بہتر سہولیات میسر آئیں گی۔

اسٹیٹ لائف کے سی ای او شعیب جاوید حسین نے کہا کہ ادارہ اپنی ملک گیر نیٹ ورک، ڈیجیٹل کلیمز سسٹم اور وسیع آپریشنل صلاحیت کے ذریعے اس پروگرام کو شفاف اور مؤثر انداز میں چلانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

حکام کے مطابق یہ پروگرام بلوچستان میں صحت کے شعبے میں ایک اہم اصلاحاتی قدم ہے، جس کا مقصد سرکاری ملازمین اور ان کے خاندانوں کو معیاری اور باعزت طبی سہولیات فراہم کرنا ہے، جبکہ پورے صوبے میں صحت کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا بھی اس منصوبے کا بنیادی ہدف ہے۔