بلوچستان کے سرحدی اور ساحلی علاقوں میں ایرانی پیٹرول کی قیمت میں 30 سے 40 روپے فی لیٹر تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد شہریوں کو ایندھن کی بڑھتی ہوئی لاگت کا سامنا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی پیٹرول جیوانی کے قریب کنتانی ہور کے سمندری راستے سے گوادر پہنچایا جاتا ہے۔ قبل ازیں گوادر میں ایرانی پیٹرول 170 سے 180 روپے فی لیٹر فروخت ہو رہا تھا، تاہم کنتانی ہور کی بندش کی خبروں کے بعد اس کی قیمت بڑھ کر 200 سے 210 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستان میں بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ عالمی تجارتی رپورٹس کے مطابق برطانوی خام تیل برینٹ 107 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل 101 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر سپلائی میں کمی اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے اثرات درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ممالک، خصوصاً پاکستان، پر براہِ راست پڑ رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق حکومت کی آئندہ قیمتوں کے جائزے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ہے، جس سے ٹرانسپورٹ اور ضروری اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل مہنگا ہونے کے باعث پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں کم از کم 10 روپے فی لیٹر اضافہ کیا جا سکتا ہے۔