ہزرجنزی فائرنگ واقعے پر بلوچستان کی سیاسی و انتظامی قیادت نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور ذمہ دار عناصر کے خلاف فوری کارروائی کا اعلان کیا ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے محکمہ داخلہ اور انسپکٹر جنرل پولیس کو ہدایت کی ہے کہ واقعے کی تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔ انہوں نے واقعے کو “بزدلانہ کارروائی” قرار دیتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے گہرے دکھ اور ہمدردی کا اظہار کیا۔
وزیراعلیٰ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ ملوث عناصر کو جلد از جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، جبکہ زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد عناصر امن کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے حکومتی اقدامات میں تعاون کریں۔
صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے واقعے کو انسانیت دشمن کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملوث افراد قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتے۔ انہوں نے سول ہسپتال کے ٹراما سینٹر کا دورہ کیا اور زخمیوں کی عیادت کی۔
وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زخمیوں کو تمام ممکنہ طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور مجرموں کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
صوبائی وزیر حاجی میر علی مدد جتک نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا ناقابل برداشت عمل ہے۔ انہوں نے عوام سے اتحاد اور امن قائم رکھنے کے لیے تعاون کی اپیل کی۔