کوئٹہ: بلوچستان کے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے محکمہ جنگلات و وائلڈ لائف میں مبینہ 26 کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیوں کے کیس میں ایک ٹھیکیدار اور ایک سرکاری افسر کو گرفتار کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی 2024-25 کے دوران مختلف ترقیاتی منصوبوں میں ہونے والی بے قاعدگیوں کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد کی گئی۔
انکوائری رپورٹ کے مطابق محکمہ جنگلات کے سابق کنزرویٹر برائے کوسٹل مینجمنٹ مقبول الحسن دشتی اور ٹھیکیدار مہتاب عالم پر الزام ہے کہ انہوں نے مینگروو ریسرچ سینٹر، شجرکاری، نرسری ڈیولپمنٹ، زمین کی ہمواری، گیسٹ ہاؤسز اور دیگر ترقیاتی منصوبوں میں مالی بے ضابطگیاں کیں۔
اینٹی کرپشن حکام کا کہنا ہے کہ بعض منصوبے اصل میں محکمہ مواصلات و تعمیرات کے ذریعے مکمل ہونے تھے لیکن غیر قانونی طور پر محکمہ جنگلات نے خود انجام دیے۔ مزید یہ کہ متعدد منصوبے یا تو کاغذات میں مکمل دکھائے گئے یا موقع پر ناقص اور ادھورے پائے گئے۔
حکام کے مطابق ان منصوبوں میں پیشگی ادائیگیوں کے ذریعے بھی بڑی رقوم کی مبینہ خورد برد کی گئی۔ اینٹی کرپشن ذرائع نے بتایا کہ مقدمہ درج کرنے کے بعد دونوں ملزمان کو گرفتار کیا گیا جبکہ سابق کنزرویٹر کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔
یہ مقدمہ باضابطہ طور پر انکوائری مکمل ہونے کے بعد درج کیا گیا ہے اور اب کیس قانونی کارروائی کے اگلے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔