ایران کے مبینہ 10 نکاتی امن منصوبے کے بارے میں کوئی سرکاری مکمل متن جاری نہیں کیا گیا، تاہم ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی جانب سے جاری کردہ خلاصے کے مطابق اس میں درج ذیل اہم مطالبات شامل ہیں:
آبنائے ہرمز کو ایران کی مسلح افواج کی نگرانی اور کوآرڈینیشن کے تحت دوبارہ کھولا جائے۔
نام نہاد “ایکسس آف ریزسٹنس” کے تمام عناصر کے خلاف جاری جنگ کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔
امریکہ اپنی تمام افواج کو خطے میں موجود تمام فوجی اڈوں اور تعیناتی مقامات سے واپس بلائے۔
آبنائے ہرمز میں محفوظ اور منظم بحری راستے کے لیے ایک باضابطہ ٹرانزٹ پروٹوکول قائم کیا جائے۔
ایران کو جنگ میں ہونے والے نقصانات کا مکمل معاوضہ ادا کیا جائے۔
تمام بنیادی اور ثانوی پابندیاں ختم کی جائیں، ساتھ ہی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی تمام قراردادیں بھی واپس لی جائیں۔
بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں اور جائیدادوں کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔
اس کے علاوہ، ایران نے اپنے مؤقف میں جوہری پروگرام ختم کرنے کی کوئی واضح شرط شامل نہیں کی، جسے امریکہ کی ایک بڑی ترجیح سمجھا جاتا ہے۔
دوسری جانب، امریکہ کی طرف سے بھی ایک 15 نکاتی تجویز پیش کیے جانے کی اطلاعات ہیں، اور دونوں تجاویز کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی بنیاد بنانے کی بات کی گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان بڑے اختلافات موجود ہیں، تاہم جنگ بندی اور مستقل مذاکرات کے لیے ایک ابتدائی فریم ورک پر اتفاق کا امکان موجود ہے۔