30°C Storm

پاکستان نےکتنے عالمی تنازعات میں ثالثی کا کردار ادا کیا: خارجہ پالیسی کی نمایاں مثالیں

اسلام آباد (GWADAR SPEAKS – ویب ڈیسک): پاکستان کی خارجہ پالیسی کی تاریخ میں کئی ایسے لمحات موجود ہیں جہاں اس نے عالمی تنازعات میں ثالثی کا مؤثر کردار ادا کیا اور بڑی طاقتوں کو میز پر بٹھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں پاکستان کی کوششیں ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنی ہیں۔

چین اور امریکا کے درمیان تاریخی ثالثی

پاکستان کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی 1971 میں سامنے آئی جب اس نے امریکا اور چین کے درمیان تعلقات کے قیام میں مدد فراہم کی۔ جولائی 1971 میں پاکستان نے امریکا اور چین کے درمیان دہائیوں سے منقطع تعلقات کو بحال کرنے کے لیے ایک خفیہ مشن سرانجام دیا۔

اس مشن کے مرکزی کردار امریکی صدر رچرڈ نکسن کے قومی سلامتی مشیر ہنری کسنجر تھے، جنہیں بیجنگ پہنچانے کے لیے صدر یحییٰ خان نے ایک نہایت محتاط منصوبہ ترتیب دیا۔

اسلام آباد کے سرکاری دورے کے دوران کسنجر کو خفیہ طور پر پی آئی اے کے خصوصی طیارے کے ذریعے بیجنگ پہنچایا گیا، اور وہاں انہوں نے چینی وزیر اعظم چو این لائی سے تاریخی ملاقات کی۔

اس دورے کے بعد جولائی 1971 میں صدر نکسن نے دنیا کو اس مشن سے آگاہ کیا، اور اگلے سال چین کا دورہ کر کے ”شنگھائی اعلامیہ“ اور 1979 میں باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم ہوئے۔

یہ کامیاب ثالثی نہ صرف پاکستان کی سفارتی قابلیت کا مظہر تھی بلکہ اس نے سرد جنگ کے عالمی تناظر اور امریکا-سوویت یونین کے تعلقات پر بھی اثر ڈالنے میں مدد کی۔

نتائج اور اثرات

پاکستان نے اس تاریخی ثالثی کے ذریعے عالمی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا، اگرچہ اس وقت کے اپنے داخلی مشکلات (1971 کی جنگ) کی وجہ سے وہ توقعات کے مطابق تمام فوائد حاصل نہیں کر سکا، تاہم یہ واقعہ آج بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی کی نمایاں مثال کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔