29°C Storm

ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف نے تاشقند کے قریب نیشنل ڈینڈرولوجیکل پارک میں شجرکاری مہم کا آغاز کر دیا

تاشقند، 2 اپریل 2026: ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف نے بدھ کے روز تاشقند کے قریب نیشنل ڈینڈرولوجیکل پارک کے قیام کا باضابطہ آغاز کرتے ہوئے منصوبے کے ابتدائی مرحلے میں خود درخت لگا کر شجرکاری مہم کا افتتاح کیا۔

صدارتی پریس سروس کے مطابق یہ پارک کِبِرائے ضلع میں تاشقند اسٹیٹ ایگریکلچرل یونیورسٹی اور گرین یونیورسٹی کے قریب 108 ہیکٹر رقبے پر تعمیر کیا جا رہا ہے، جبکہ ابتدائی مرحلے میں 5 ہیکٹر پر درخت لگائے گئے۔

تقریب کے دوران تقریباً 3,000 پودے لگائے گئے جن میں ایلم، چیسٹ نٹ، برچ، اوک، جاپانی پگوڈا ٹری، ولو اور دیگر اقسام شامل ہیں۔ حکام کے مطابق اس منصوبے کا مقصد ماحولیاتی بہتری، حیاتیاتی تنوع کے فروغ اور سائنسی تحقیق کو مضبوط بنانا ہے۔

نیشنل کمیٹی برائے ماحولیات کے مطابق ملک بھر میں بیک وقت 164 ہیکٹر رقبے پر 88,000 درخت بھی لگائے گئے، جس میں تقریباً 21,000 افراد نے حصہ لیا۔

صدر مرزیایوف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے روایتی ازبک کہاوتوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ “ایک اچھے انسان کے پیچھے باغ باقی رہتا ہے” اور “اگر بچہ پیدا ہو یا شادی ہو تو درخت لگایا جائے”، جو آج بھی معاشرے کے لیے اہم اقدار ہیں۔

انہوں نے شہریوں اور مقامی کمیونٹیز پر زور دیا کہ وہ ہر گلی، ہر گھر اور ہر علاقے میں شجرکاری کو فروغ دیں اور اس مقصد کے لیے تنظیمیں اور کلب تشکیل دیے جائیں۔

حکام کے مطابق اس پارک میں آئندہ مرحلے میں جدید سائنسی سہولیات بھی قائم کی جائیں گی جن میں ان وٹرو لیبارٹری، ادویاتی پودوں کے مراکز، بیج پیدا کرنے اور نباتاتی افزائش کے مراکز شامل ہوں گے، جو “سائنس، منصوبہ بندی اور عملی نفاذ” کے ماڈل پر کام کریں گے۔