وزارتِ تجارت نے پاکستان کے ذریعے ٹرانزٹ تجارت کو منظم کرنے کے لیے نیا قانونی فریم ورک متعارف کرایا ہے جس کا مقصد علاقائی رابطوں کو بہتر بنانا اور خاص طور پر ایران کے ساتھ کراس بارڈر لاجسٹکس کو مضبوط کرنا ہے۔ اس سلسلے میں “ٹرانزٹ آف گڈز تھرو ٹیریٹری آف پاکستان آرڈر 2026” جاری کیا گیا جو 25 اپریل 2026 سے فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔
نئے فریم ورک کے تحت پاکستان اور ایران کے درمیان 2008 کے دوطرفہ معاہدے کو بنیاد بنایا گیا ہے جس میں ٹرانزٹ آپریشنز، کسٹمز سیکیورٹی، کراس اسٹفنگ اور شپپر کی ذمہ داریوں سمیت اہم پہلوؤں کی وضاحت کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق اس نظام سے ٹرانزٹ تجارت کے لیے واضح اور یکساں قواعد فراہم ہوں گے۔
تمام ٹرانزٹ کارگو اب کسٹمز ایکٹ 1969 کے تحت آئے گا جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اس کے نفاذ اور نگرانی کے فرائض انجام دے گا۔ اس اقدام سے تجارتی عمل کو زیادہ شفاف اور مربوط بنانے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
حکومت نے ملک بھر میں اہم ٹرانزٹ کوریڈورز بھی مقرر کیے ہیں جن میں گوادر–گبد اور کراچی/پورٹ قاسم–گبد شامل ہیں، جبکہ یہ راستے تربت، پنجگور، خضدار، کوئٹہ اور تفتان سے ہوتے ہوئے ایران تک جاتے ہیں۔
پالیسی میں گوادر پورٹ کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے کیونکہ اس کی جغرافیائی پوزیشن ایران کے قریب ہونے کی وجہ سے مختصر اور کم لاگت تجارتی راستہ فراہم کرتی ہے۔ حکام کے مطابق گوادر کو ایک اہم علاقائی ٹرانزٹ حب کے طور پر ترقی دی جا رہی ہے۔
گوادر پورٹ اتھارٹی نے کارگو کی حوصلہ افزائی کے لیے فری اسٹوریج اور کم ہینڈلنگ چارجز سمیت تجارتی مراعات بھی متعارف کرائی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ فریم ورک مستقبل میں ٹرانزٹ حجم بڑھانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور بلوچستان میں لاجسٹکس انفراسٹرکچر کی بہتری میں اہم کردار ادا کرے گا۔