بیجنگ (GWADAR SPEAKS – ویب ڈیسک): چین نے خلائی ٹیکنالوجی میں ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے زمین کے نچلے مدار میں ایک سیٹلائیٹ کے ذریعے دوسرے سیٹلائیٹ کو ری فیول کرنے کا کامیاب تجربہ انجام دے دیا۔
روبوٹک ٹیکنالوجی کا جدید استعمال
چینی میڈیا کے مطابق اس تجربے میں Yousheng-306 satellite نامی سیٹلائیٹ کو استعمال کیا گیا، جس نے ایک آکٹوپس جیسے لچکدار روبوٹک بازو کے ذریعے ری فیولنگ کا عمل مکمل کیا۔ یہ جدید روبوٹک سسٹم پیچیدہ اور تنگ مقامات پر مڑنے اور جڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
خلائی مشنز کے لیے اہم پیش رفت
ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کا بنیادی مقصد سیٹلائیٹس کی عمر بڑھانا اور انہیں مدار میں ہی سروس فراہم کرنا ہے، جس سے مہنگے خلائی انفراسٹرکچر کی کارکردگی میں اضافہ ہوگا۔
یہ سیٹلائیٹ حال ہی میں چین کے صوبہ گانسو سے لانچ کیا گیا تھا اور زمین کے نچلے مدار میں تقریباً 530 سے 540 کلومیٹر کی بلندی پر گردش کر رہا ہے۔
انتہائی پیچیدہ عمل
ماہرین نے اس عمل کو خلا میں “سوئی میں دھاگا ڈالنے” کے مترادف قرار دیا، کیونکہ دو سیٹلائیٹس کے درمیان درست کنکشن قائم کرنا انتہائی مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ معمولی سی غلطی بھی پورے مشن کو ناکام بنا سکتی ہے۔
مستقبل کی خلائی ٹیکنالوجی
یہ واضح نہیں کہ تجربے کے دوران مکمل ڈوکنگ کی گئی یا نہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ مدار میں ری فیولنگ مستقبل کی اہم ٹیکنالوجی ہے، جو سیٹلائیٹس کی کارکردگی اور مدت کو بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل چین نے ایک اور کامیاب تجربے میں دو سیٹلائیٹس کے درمیان ڈوکنگ کا مظاہرہ کیا تھا، جو خلائی تحقیق میں اس کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کا ثبوت ہے۔