تہران، ایران میں پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے ملاقات کی، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کر کے ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کرنا بتایا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسلام آباد ایک ایسے فریم ورک پر کام کر رہا ہے جس کے تحت ایران کے جوہری پروگرام کی نگرانی کے لیے اقوام متحدہ کے جوہری ادارے اور چار ممالک پر مشتمل مشترکہ نظام قائم کیا جا سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایران نے اصولی طور پر اس تجویز کو قبول کر لیا ہے جبکہ امریکہ کی جانب سے حتمی ردعمل کا انتظار ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق امریکہ ایران سے طویل المدتی نگرانی اور یورینیم افزودگی پر سخت پابندی کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ ایران محدود مدت کے لیے عارضی معطلی پر آمادہ دکھائی دیتا ہے۔ ممکنہ طور پر دونوں مؤقف کے درمیان ایک درمیانی حل پر بات چیت جاری ہے جس میں دس سالہ نگرانی کا فارمولا زیر غور ہے۔
اطلاعات کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کے جلد واشنگٹن کے دورے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم اس کی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی۔ ان کے ہمراہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی تہران میں موجود تھے جہاں ایرانی قیادت نے پاکستان کے کردار کو سراہا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق تہران اور واشنگٹن کے درمیان رابطے پاکستان کے ذری