سندھ کے گورنر سید محمد نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ صومالیہ کے قریب آئل ٹینکر ہائی جیک ہونے کے بعد اغوا کیے گئے 11 پاکستانی عملے کی بحفاظت رہائی کے لیے حکومت ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کے دوران یقین دہانی کرائی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑی ہیں۔
حکام کے مطابق مسلح قزاقوں نے صومالیہ کے ساحل کے قریب آئل ٹینکر کو قبضے میں لے کر 11 پاکستانی عملے کے ارکان اور ایک انڈونیشین کپتان کو یرغمال بنا لیا تھا۔ گورنر سندھ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ واقعے کے فوراً بعد متاثرہ خاندانوں سے رابطہ قائم کیا گیا اور ان کے خدشات سن کر مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔
انہوں نے کہا کہ یرغمال افراد سے رابطہ برقرار ہے اور ان کی بحفاظت واپسی کے لیے مختلف سطحوں پر کوششیں جاری ہیں۔ اس سلسلے میں یورپی یونین کے ساتھ بھی رابطے کیے جا رہے ہیں تاکہ رہائی کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔
گورنر کے مطابق یہ واقعہ پاکستان کی سمندری حدود سے باہر پیش آیا جس کی وجہ سے معاملے میں کچھ پیچیدگیاں درپیش ہیں، تاہم حکومت تمام ممکنہ ذرائع استعمال کر رہی ہے۔
متاثرہ خاندانوں نے حکومتی اقدامات کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کے پیارے جلد بحفاظت واپس آئیں گے۔ حکام نے کسی حتمی ٹائم لائن کا اعلان نہیں کیا، تاہم یقین دلایا ہے کہ رہائی کے لیے کوششیں مسلسل جاری رہیں گی۔