29°C Storm

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں آبنائے ہرمز پر قرارداد پر ووٹنگ، ٹرمپ کی ڈیڈ لائن سے قبل اہم پیش رفت

واشنگٹن، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل منگل کے روز آبنائے ہرمز سے متعلق بحرین کی جانب سے تیار کردہ ایک قرارداد پر ووٹنگ کرنے جا رہی ہے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس ڈیڈ لائن سے چند گھنٹے قبل ہوگی جس میں ایران سے آبنائے کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

یہ قرارداد Gulf Cooperation Council اور اردن کی مشاورت سے تیار کی گئی ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے تجارتی جہاز رانی کرنے والے ممالک مشترکہ دفاعی اقدامات کریں، جن میں تجارتی جہازوں کی حفاظت کیلئے مشترکہ اسکارٹ سروس بھی شامل ہے۔

قرارداد میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر تجارتی اور شہری انفراسٹرکچر، خصوصاً تیل، گیس اور پانی کی تنصیبات پر حملے بند کرے۔

حالیہ کشیدگی اس وقت بڑھی جب 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی اہداف پر حملوں کے بعد ایران نے جوابی کارروائیاں کرتے ہوئے تجارتی جہازوں پر حملے کیے اور مبینہ طور پر سمندری بارودی سرنگیں بھی استعمال کیں۔

ابتدائی مسودوں میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے باب ہفتم کے تحت طاقت کے استعمال کی اجازت بھی شامل تھی، تاہم چین، روس اور بعض یورپی ممالک کے اعتراضات کے بعد اسے حتمی متن سے نکال دیا گیا۔ موجودہ قرارداد صرف دفاعی اقدامات اور بین الاقوامی قانون کے احترام پر زور دیتی ہے۔

قرارداد کی منظوری کیلئے کم از کم نو ووٹ اور کسی بھی مستقل رکن کی جانب سے ویٹو نہ ہونا ضروری ہے۔ چین اور روس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ قرارداد بالواسطہ طور پر طاقت کے استعمال کو جواز دے سکتی ہے، جبکہ برطانیہ اور فرانس نے اسے محدود دفاعی فریم ورک تک رکھنے کی حمایت کی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ ووٹنگ نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بین الاقوامی سطح پر لے جا رہی ہے بلکہ عالمی توانائی سپلائی اور تجارتی راستوں پر بھی گہرے اثرات ڈال سکتی ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کی تیل اور گیس کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔