ایران نے پاکستان کے راستے اپنی متبادل تجارتی راہداری کے لیے لاگت اور کسٹمز فیس کی تفصیلات جاری کر دی ہیں، جس کا مقصد امریکی بحری پابندیوں اور روایتی سمندری راستوں میں بڑھتے خطرات سے بچنا بتایا جا رہا ہے۔ یہ راہداری کراچی اور گوادر سے ایران کے سرحدی پوائنٹس ریمدان اور تفتان تک کارگو ٹرانسپورٹ کے لیے استعمال کی جائے گی۔
تفصیلات کے مطابق ایران چیمبر آف کامرس (ICCIMA) کی جانب سے جاری سرکاری میمورنڈم میں کراچی سے ایران تک کنٹینر شپمنٹ، پورٹ چارجز، ہینڈلنگ فیس اور زمینی ٹرانسپورٹ کے اخراجات واضح کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 40 فٹ کنٹینر پر پورٹ اور وئیر ہاؤسنگ چارجز 300 ڈالر جبکہ 20 فٹ کنٹینر پر 200 ڈالر مقرر کیے گئے ہیں۔ اسی طرح شپنگ لائن فیس 40 فٹ کے لیے 400 ڈالر اور 20 فٹ کے لیے 200 ڈالر تک ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ درآمد کنندگان کو سیکیورٹی ڈپازٹ بھی جمع کرانا ہوگا، جو 40 فٹ کنٹینر کے لیے 3000 ڈالر اور 20 فٹ کنٹینر کے لیے 1500 ڈالر مقرر کیا گیا ہے۔ کسٹمز کلیئرنس فیس بھی 40 فٹ کے لیے 300 ڈالر اور 20 فٹ کے لیے 200 ڈالر رکھی گئی ہے۔
سب سے زیادہ لاگت زمینی ٹرانسپورٹ کی ہے، جس کے مطابق کراچی سے ریمدان بارڈر تک فی کنٹینر 2500 سے 3500 ڈالر جبکہ کراچی سے تفتان تک 5000 سے 6000 ڈالر تک خرچ آتا ہے۔ مجموعی طور پر ریمدان روٹ پر 40 فٹ کنٹینر کی بنیادی لاگت 3500 سے 4500 ڈالر اور تفتان روٹ پر 6000 سے 7000 ڈالر تک بتائی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان اس راہداری کو فعال بنانے کے لیے گوادر بندرگاہ پر چارجز میں 25 فیصد کمی، پورٹ ٹیرف میں 31 سے 40 فیصد کمی اور ایک ماہ کی فری اسٹوریج سہولت فراہم کر رہا ہے تاکہ ایرانی ٹرانزٹ کارگو کو خطے کے دیگر روٹس کے بجائے پاکستان کی بندرگاہوں کی طرف راغب کیا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق گوادر کی جغرافیائی اہمیت اور نسبتاً محفوظ سمندری مقام اس منصوبے کو ایران کے لیے ایک اہم متبادل تجارتی راستہ بنا رہا ہے، جس سے پاکستان خطے میں ایک ابھرتے ہوئے ٹرانزٹ حب کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔