اسلام آباد/گوادر: مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے تناظر میں حکومت نے گوادر بندرگاہ پر ٹرانس شپمنٹ سرگرمیوں کو بڑھانے کی حکمت عملی پر کام تیز کر دیا ہے، جس کا مقصد عالمی تجارتی بہاؤ کو پاکستان کی جانب منتقل کرنا ہے۔
پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق ایک خصوصی جہاز 35 جنرل ٹرانس شپمنٹ کارگو کے ساتھ گوادر بندرگاہ پر لنگر انداز ہوا، جو اس حوالے سے اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں خطرات کے باعث کئی جہاز اپنے راستے تبدیل کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیر بحری امور جنید انور چوہدری نے کہا کہ گوادر ایک محفوظ اور اسٹریٹجک بندرگاہ کے طور پر ابھرتا جا رہا ہے، جہاں عالمی شپنگ کمپنیوں کو متبادل اور محفوظ راستہ فراہم کیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق گوادر بندرگاہ 16 ہزار کنٹینرز تک کارگو سنبھالنے اور 90 ہزار مربع میٹر رقبے پر جنرل کارگو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جبکہ حالیہ پالیسی تبدیلیوں کے تحت ٹرانس شپمنٹ کو مزید سہولت دی گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مالی مراعات، بڑھتی صلاحیت اور نسبتاً مستحکم ماحول کے باعث گوادر تیزی سے علاقائی تجارتی مرکز بننے کی جانب بڑھ رہا ہے، جو پاکستان کیلئے قیمتی زرمبادلہ اور معاشی مواقع پیدا کر سکتا ہے۔