بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا لانگو نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے مقدمات میں کم سزا یابی کی بڑی وجہ ججز کو ملنے والی دھمکیاں ہیں، کیونکہ دہشت گرد عناصر فیصلوں کے بعد ججز اور ان کے اہل خانہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عدالتی نظام کے تحفظ اور دہشت گردی کے مقدمات کو مؤثر بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ دہشت گرد سکیورٹی فورسز، شہریوں اور سرکاری تنصیبات کو نشانہ بناتے ہیں اور ان کا مقصد ریاستی اداروں کو کمزور کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب یا قومیت نہیں ہوتی، یہ عناصر معصوم لوگوں اور ریاستی اداروں کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں۔
میر ضیا لانگو نے حالیہ دہشت گرد حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں نے مسافر بسوں، شہریوں اور اب عدلیہ کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ججز اور ان کے خاندانوں کو سنگین خطرات کا سامنا ہے، جس کے باعث بلوچستان حکومت ججز کی سکیورٹی مزید بہتر بنانے کے اقدامات کر رہی ہے۔
وزیر داخلہ نے اعتراف کیا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے مقدمات میں سزا کی شرح تشویشناک حد تک کم ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ ججز کو درپیش خطرات کے باعث عدالتی کارروائی متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ججز کے تحفظ اور دہشت گردی کے خلاف قانونی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے نئی قانون سازی بھی کی جا رہی ہے۔
یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب کوئٹہ سے مستونگ جانے والے عدالتی اہلکاروں کی گاڑی پر حملہ کیا گیا، جس میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کا سکیورٹی گارڈ جاں بحق جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری زخمی ہوئے۔ بلوچستان حکومت نے واقعے کو دہشت گردی کی منصوبہ بندی قرار دیتے ہوئے ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا ہے۔
صوبائی ترجمان شاہد رند نے کہا کہ عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانا ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی ناکام کوشش ہے۔ حکومت کے مطابق حالیہ حملے کے بعد ججز کی سکیورٹی کا ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ عدالتی نظام کو محفوظ بنایا جا سکے۔