30°C Sunny

حکومت کا 60 روزہ اسٹریٹجک آئل ریزرو منصوبہ تیز کرنے کا فیصلہ – توانائی تحفظ کیلئے خام تیل اور پٹرولیم ذخائر بڑھانے پر توجہ

حکومت نے پاکستان کی توانائی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے طویل عرصے سے زیر التوا اسٹریٹجک آئل ریزرو منصوبے پر کام تیز کر دیا ہے۔ نیشنل کوآرڈینیشن اینڈ مینجمنٹ کونسل نے حکام کو ہدایت دی ہے کہ ایسا جامع فریم ورک تیار کیا جائے جس کے تحت ملک میں 60 دن کے خام تیل کے استعمال کے برابر ذخائر قائم کیے جا سکیں۔

پیٹرولیم ڈویژن نے کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مجوزہ منصوبے میں پٹرولیم مصنوعات کے لیے 30 دن کے استعمال کے برابر ذخائر رکھنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، امریکا اور ایران تنازع اور آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت کو درپیش خطرات کے باعث عالمی توانائی سپلائی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

کونسل نے نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (NLC) کو ہدایت دی ہے کہ وہ پیٹرولیم ڈویژن اور دیگر اداروں کی تجاویز کو یکجا کرکے اسٹریٹجک ذخائر کے لیے یکساں پالیسی تیار کرے۔ این ایل سی نے تجویز دی کہ منصوبے میں بندرگاہی انفراسٹرکچر، ذخیرہ کرنے کی سہولیات اور نیشنل پورٹس ماسٹر پلان کو بھی شامل کیا جائے۔

اس وقت پاکستان میں آئل مارکیٹنگ کمپنیاں اور ریفائنریز تقریباً 50 فیصد تیل ذخائر رکھتی ہیں، تاہم یہ ذخائر تجارتی ضروریات کے لیے ہوتے ہیں اور انہیں اسٹریٹجک ذخائر تصور نہیں کیا جاتا۔ موجودہ قوانین کے تحت آئل مارکیٹنگ کمپنیاں تقریباً 20 دن کی ضروریات کے برابر ذخائر برقرار رکھنے کی پابند ہیں۔

حکومت نے اس منصوبے کو سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر بھی غور شروع کر دیا ہے۔ ان میں اسٹریٹجک ذخائر قائم کرنے والے سرمایہ کاروں کو برآمدی سہولیات فراہم کرنا اور مشینری کی درآمد پر ٹیکس مراعات دینا شامل ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن نے بانڈڈ اسٹوریج اور ریفائنری اپ گریڈیشن سے متعلق تجاویز بھی تیار کی ہیں، جنہیں متعلقہ فریقین سے مشاورت کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی کے ذریعے غیر ملکی تیل سپلائرز کو پاکستان میں ذخیرہ گاہیں قائم کرنے کے لیے راغب کیا جائے گا۔

پاکستان نے پہلی مرتبہ 2006 میں 60 روزہ اسٹریٹجک آئل ریزرو قائم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، تاہم سیاسی تبدیلیوں اور مسلسل عملدرآمد نہ ہونے کے باعث یہ منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔ اس سے قبل گوادر میں آئل سٹی کے قیام کے لیے متحدہ عرب امارات کو زمین مختص کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی تھی، مگر اس میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔

حکومت کے مطابق توانائی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اسٹریٹجک ذخائر کا قیام مستقبل میں عالمی سپلائی بحرانوں سے نمٹنے، قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کم کرنے اور ملک کی معاشی استحکام کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

Just In
27-10-2026
بلوچستان میں ماہواری مصنوعات پر ٹیکس میں ریلیف کی تجویز بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اولین ترجیح قرار بلوچستان میں پہلی ایئر ایمبولینس سروس دور دراز علاقوں کیلئے جلد شروع ہوگی ایوانِ صدر میں اہم اجلاس، مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور پاکستان کے ثالثی کردار پر غور کراچی، گوادر کو وفاقی علاقے کا درجہ دینے کی تجویز پر اسد عمر کا ردعمل – وسائل اور اختیارات صوبوں سے لینے کے نتائج سے خبردار تفصیلی خبر پاکستان میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ہزرجنزی فائرنگ واقعے کی بلوچستان قیادت کی جانب سے شدید مذمت، ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان سرفراز بگٹی کی حنا اورک حملہ متاثرین سے ملاقات – دہشت گردوں اور سہولت کاروں کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کا عزم پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی سوئٹزرلینڈ آمد – امریکا ایران امن مذاکرات میں اعلیٰ سطحی شرکت بلوچستان میں نوجوانوں کیلئے صنعت سے منسلک تربیتی پروگراموں پر زور – حکومت، اداروں اور کاروباری شعبے کے درمیان رابطہ بڑھانے کا فیصلہ