29°C Sunny

پاکستان اور سات عرب اسلامی ممالک کا مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی اقدامات کی مذمت کا اعلان – عالمی برادری سے خلاف ورزیاں روکنے کا مطالبہ

پاکستان اور سات عرب اسلامی ممالک نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی اقدامات، آبادکاروں کی دراندازی اور اشتعال انگیز سرگرمیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقدس مقام کی حرمت اور تاریخی حیثیت کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔

پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں مسجد اقصیٰ کے احاطے میں اسرائیلی آبادکاروں کے داخلوں، اسرائیلی پرچم لہرانے اور دیگر اقدامات کو اشتعال انگیز قرار دیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ ایسے اقدامات بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات سے متعلق تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ وزرائے خارجہ نے کہا کہ ان سرگرمیوں سے کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے اور خطے میں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچتا ہے۔

مشترکہ بیان میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ مسجد اقصیٰ / الحرم الشریف کا پورا 144 دونم پر مشتمل علاقہ مسلمانوں کے لیے خصوصی عبادت گاہ ہے، جبکہ مسجد کے انتظامی امور کی ذمہ داری اردن کے محکمہ اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور سے متعلق ادارے کے پاس ہے۔

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کی جانب سے مسجد اقصیٰ میں مبینہ پابندیوں، مسلمانوں کی رسائی محدود کرنے اور مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششوں کو مسترد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی آزادی کو متاثر کرتے ہیں بلکہ خطے میں نفرت اور انتہا پسندی کو بھی بڑھاوا دیتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ مقبوضہ یروشلم کے اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کی موجودہ حیثیت برقرار رکھنا ضروری ہے اور کسی بھی فریق کو تاریخی انتظامات تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

وزرائے خارجہ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ مسجد اقصیٰ اور دیگر مقدس مقامات کے خلاف اقدامات روکے جائیں، عبادت گزاروں کی رسائی یقینی بنائی جائے اور بین الاقوامی قوانین کا احترام کیا جائے۔

پاکستان اور عرب اسلامی ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ یروشلم کے مقدس مقامات کے تحفظ، فلسطینی عوام کے حقوق اور خطے میں منصفانہ اور دیرپا امن کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھیں گے۔