اسلام آباد، پاکستان میں حکومت نے نئی آٹو سیکٹر پالیسی 2026-31 کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو جائزے کے لیے پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد ٹیکس اور ٹیرف میں کمی اور آٹو انڈسٹری میں مسابقت کو بڑھانا ہے۔
حکام کے مطابق نئی پالیسی کے تحت 2030 تک گاڑیوں پر اوسط ٹیرف 10.6 فیصد سے کم ہو کر 7.4 فیصد تک لایا جائے گا، جبکہ مجموعی ہدف اسے تقریباً 6 فیصد تک محدود کرنا ہے۔ درآمدی گاڑیوں پر کسٹمز ڈیوٹی کو بھی 15 فیصد کی حد میں رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پالیسی کے مطابق کوئی نئی ریگولیٹری ڈیوٹی نافذ نہیں کی جائے گی، جبکہ موجودہ اضافی ڈیوٹیز کو مرحلہ وار ختم کیا جائے گا۔ استعمال شدہ گاڑیوں پر عائد 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی بھی بتدریج ختم کرنے کا منصوبہ ہے۔
نئی پالیسی یکم جولائی 2026 سے نافذ ہونے کی توقع ہے، جس میں کسٹمز ڈیوٹی کے مختلف سلیب 0، 5، 10 اور 15 فیصد رکھے جائیں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس اصلاحاتی منصوبے کا مقصد مقامی پیداوار کو فروغ دینا، برآمدات کو 3 ارب ڈالر تک بڑھانا اور سالانہ گاڑیوں کی پیداوار 5 لاکھ یونٹس سے زائد کرنا ہے۔ اس وقت پاکستان میں سالانہ طلب کے مقابلے میں پیداواری صلاحیت زیادہ ہے جبکہ بڑی تعداد میں استعمال شدہ گاڑیاں بھی درآمد کی جا رہی ہیں۔
پالیسی میں الیکٹرک گاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے مراعات بھی شامل ہوں گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات آٹو سیکٹر کو عالمی منڈیوں سے ہم آہنگ بنانے اور سرمایہ کاری بڑھانے میں مدد دیں گے۔