30°C Sunny

گورنر بلوچستان کا جامعہ گوادر کو عالمی ساحلی درسگاہ بنانے کا عزم

گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے جامعہ گوادر کے سینیٹ کے تیسرے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اعلیٰ تعلیم کے فروغ اور جامعہ گوادر کو دنیا کی نمایاں ساحلی جامعات میں شامل کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ محدود وسائل اور مختلف چیلنجز کے باوجود بلوچستان کی سرکاری جامعات نے مؤثر منصوبہ بندی اور سخت نگرانی کے ذریعے قابلِ قدر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر نے جامعہ گوادر کی 88.79 فیصد کارکردگی کو قابلِ فخر قرار دیتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ نے مختصر عرصے میں تدریسی اور انتظامی میدان میں نمایاں پیش رفت کی ہے، جو صوبے کے اعلیٰ تعلیمی شعبے کے لیے حوصلہ افزا ہے۔

جعفر خان مندوخیل نے بتایا کہ جامعہ گوادر کا اسٹریٹجک پلان 2026 تا 2030 ساحلی معیشت (بلیو اکانومی)، میرین سائنسز، فشریز، ساحلی پٹی کے انتظام اور ماحولیاتی علوم جیسے شعبوں پر مرکوز ہے تاکہ یونیورسٹی کو ایک منفرد تعلیمی شناخت دی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اور تحقیقی معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے مختلف شعبوں کے ماہرین سے بھی مشاورت کی جا رہی ہے۔

گورنر نے جامعہ میں ووکیشنل ٹریننگ اور ڈپلومہ پروگراموں کے آغاز کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نوجوانوں، خصوصاً بے روزگار افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے اس بات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا کہ جامعہ کے تقریباً نصف طلبہ مقامی طالبات پر مشتمل ہیں، جو دور دراز علاقوں میں خواتین کی تعلیم کے فروغ کی مثبت علامت ہے۔

انہوں نے کہا کہ جامعہ کا بنیادی مقصد جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تحقیق کو فروغ دینا ہے اور تحقیقی مقالوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اس جانب اہم پیش رفت ہے۔ اجلاس میں مختلف تجاویز کی روشنی میں متعدد اہم فیصلے بھی کیے گئے، جن کا مقصد جامعہ گوادر کی تدریسی، تحقیقی اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید مستحکم بنانا ہے۔