ایک نئی بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سفارتی انداز کو سمجھتے ہوئے اپنی خارجہ پالیسی میں عملی اور لین دین پر مبنی حکمتِ عملی اپنائی ہے، جس کے نتیجے میں وہ ایران جنگ میں ایک غیر متوقع ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے گزشتہ ایک سال کے دوران امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے معاشی معاہدے، انسداد دہشت گردی تعاون اور کریپٹو و منرلز کے شعبوں میں پیش رفت کی، جبکہ اعلیٰ سطح پر ٹرمپ کی قیادت کی عوامی تعریف بھی کی گئی۔
مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے، خصوصاً ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کے ذریعے سفارتی کردار حاصل کیا، حالانکہ پاکستان نہ اسرائیل کو تسلیم کرتا ہے اور نہ ہی خطے کی بڑی طاقتوں کے ساتھ ہمیشہ ہم آہنگ رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی فوجی اور سیاسی قیادت نے حالیہ عرصے میں امریکہ کے ساتھ قریبی روابط قائم کیے، جس میں انسداد دہشت گردی تعاون، معدنی وسائل کے معاہدے اور سفارتی اقدامات شامل ہیں۔ اس عمل کے نتیجے میں پاکستان کو خطے میں ایک فعال امن کار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔