جماعت اسلامی نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کے اعلان کا فیصلہ مؤخر کردیا ہے کیونکہ حکومت نے پٹرولیم لیوی سے متعلق جماعت کے مطالبات پر فیصلہ کرنے کے لیے مزید 3 دن کی مہلت طلب کرلی ہے۔ جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ کے مطابق اسلام آباد میں پنجاب ہاؤس میں مذاکرات کے دوسرے دور کے بعد حکومت نے حتمی فیصلے کو پیر تک مؤخر کرنے کی درخواست کی، جسے جماعت نے قبول کرلیا۔ لیاقت بلوچ نے بتایا کہ جماعت اسلامی نے عوام کو پٹرولیم قیمتوں میں ریلیف دینے کے لیے 6 مطالبات پیش کیے ہیں، تاہم مذاکرات کے دوران متعدد دفتری اور طریقہ کار کی رکاوٹیں سامنے آئیں۔ ان کے مطابق حکومت نے مطالبات پر تاحال واضح جواب نہیں دیا۔ جماعت اسلامی پٹرولیم لیوی میں کمی یا خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہے اور اس کے خلاف ملک بھر میں احتجاج جاری ہے۔ جماعت نے 32 شہروں میں دھرنے بھی دے رکھے ہیں۔ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے اس سے قبل 10 ستمبر کو حکومت کے لیے فیصلہ کن تاریخ مقرر کرتے ہوئے مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں اسلام آباد مارچ کا اعلان کرنے کا انتباہ دیا تھا۔ جماعت کا دعویٰ ہے کہ پٹرول پر تقریباً 85 روپے فی لیٹر پٹرولیم لیوی جبکہ مجموعی ٹیکس تقریباً 130 روپے فی لیٹر وصول کیا جا رہا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے بھی رابطہ کیا، جنہوں نے عوامی ریلیف کے مطالبے کی حمایت کی