پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے درمیان 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے چوتھے جائزے کے لیے مذاکرات 22 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان ہے۔ رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف کا مشن کراچی اور اسلام آباد میں تقریباً دو ہفتے قیام کرے گا، جبکہ پروگرام جائزے کے ساتھ آرٹیکل فور کے تحت مشاورت بھی ہوگی جو دو سال کے وقفے کے بعد منعقد کی جارہی ہے۔ آئی ایم ایف کے پاکستان میں مقیم مشن چیف ماہر بنچی کے مطابق مشن آئندہ ہفتوں میں پاکستان کا دورہ کرے گا اور جائزے کے لیے معمول کے مطابق تقریباً دو ہفتے درکار ہوں گے۔ پاکستانی حکام نے بھی آئی ایم ایف مشن کی جلد آمد کی تصدیق کی ہے۔ مذاکرات سے قبل حکومت نے درآمدات کے ماہانہ اور سالانہ اعداد و شمار پر نظرثانی کرکے انہیں آئی ایم ایف کو جمع کرایا ہے اور اربوں ڈالر کی مالیت کے اعداد و شمار میں موجود تضادات دور کیے گئے ہیں۔ آئی ایم ایف مشن حکومت کی جانب سے حکمرانی اور بدعنوانی کی تشخیصی رپورٹ پر عملدرآمد کے منصوبے کا بھی جائزہ لے گا۔ آئندہ پروگرام جائزے کے ساتھ آرٹیکل فور مشاورت بھی ہوگی، جس کا آخری اجلاس ستمبر 2024 میں ہوا تھا۔ آرٹیکل فور کے تحت آئی ایم ایف رکن ممالک کی معیشتوں اور مالی و زر مبادلہ پالیسیوں کا باقاعدہ جائزہ لیتا ہے