28°C Sunny

بلوچستان کو قومی ریونیو سے صرف بیس ملین، این ایچ اے انکشاف

کوئٹہ، بلوچستان، پاکستان میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے انکشاف کیا ہے کہ ایک سو تیس ارب روپے کے قومی سالانہ ریونیو پول میں سے بلوچستان کو صرف بیس ملین روپے ملتے ہیں، حالانکہ صوبے میں چار ہزار کلومیٹر سے زائد قومی شاہراہیں موجود ہیں۔ یہ بات این ایچ اے حکام نے کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتائی۔

حکام کے مطابق بلوچستان میں شاہراہوں کی سالانہ دیکھ بھال کے لیے تقریباً پندرہ ارب روپے درکار ہوتے ہیں، جو اس وقت دیگر صوبوں سے حاصل ہونے والی آمدن سے پورے کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ریونیو میں اضافے کے لیے ٹول پلازہ، این او سی اور رائٹ آف وے چارجز کو فعال بنانے کی تجاویز زیر غور ہیں، جبکہ قلعہ سیف اللہ، رکھنی، دالبندین، نوکنڈی اور کوسٹل ہائی وے پر کئی ٹول پلازے پہلے ہی فعال ہیں۔

این ایچ اے حکام نے کہا کہ بلوچستان میں تقریباً پچانوے فیصد کاروباری سرگرمیاں شاہراہوں سے وابستہ ہیں، اس لیے مقامی تاجر برادری کا تعاون ریونیو اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ترقیاتی منصوبوں کی کامیابی کے لیے مقامی اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

اجلاس میں جاری منصوبوں پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ کچلاک تا مستونگ بائی پاس پر کام جاری ہے جبکہ کوئٹہ چمن شاہراہ پر بھی تعمیراتی کام تیز کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں، خصوصاً بیلیلی کے مقام پر جہاں حالیہ حادثات پیش آئے۔

کوئٹہ چیمبر آف کامرس کے نمائندوں نے ترقیاتی اقدامات کو سراہتے ہوئے بعض فعال سڑکوں کو توڑنے پر تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ اس سے عوام پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔ انہوں نے تاخیر کا شکار منصوبوں کی بروقت تکمیل اور سڑکوں کی بہتری پر بھی زور دیا۔