پاکستان سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں حوثی فورسز کے خلاف فضائی کارروائی پر غور کر رہا ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا۔ پاکستانی ذرائع کے مطابق ممکنہ کارروائی میں یمن کے صعدہ سمیت دیگر علاقوں سے حوثیوں کو ہٹانے کو ترجیح دی جاسکتی ہے اور فیصلہ ہونے کی صورت میں کارروائی جلد ظاہر کی جا سکتی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حوثیوں نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سعودی عرب کے خلاف حملے تیز کیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق حوثیوں نے جولائی سے سعودی تیل تنصیبات اور بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، جبکہ سعودی عرب نے بھی منگل کو یمن میں جوابی حملے کیے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ سعودی عرب پر حملہ ہونے کی صورت میں مکہ دفاعی معاہدہ فعال ہوسکتا ہے اور معاہدے کے تحت ایک رکن پر حملہ تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ رواں ماہ طے پانے والے معاہدے کے تحت پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے ایک دوسرے کے خلاف حملے کی صورت میں باہمی دفاع کا عزم کیا ہے۔ پاکستان پہلے ہی سعودی عرب میں فوجی اہلکار، لڑاکا طیارے، ڈرونز اور فضائی دفاعی نظام تعینات کرچکا ہے۔ پاکستانی ذرائع کے مطابق اگر ریاض کی جانب سے باضابطہ فوجی درخواست موصول ہوئی تو اسلام آباد حوثیوں کے خلاف فضائی کارروائی میں شریک ہوسکتا ہے