29°C Sunny

جامعہ تربت اعلیٰ تعلیم میں نمایاں مقام حاصل کرنے لگی – گورنر بلوچستان نے طالبات کی اکثریت کو سماجی ترقی کی علامت قرار دیا

گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے جامعہ تربت کی تعلیمی، انتظامی اور تحقیقی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ادارہ مختلف حوالوں سے صوبے کا ایک نمایاں اور قابل فخر اعلیٰ تعلیمی ادارہ بن کر ابھر رہا ہے۔ انہوں نے یہ بات جامعہ تربت کے دسویں سینیٹ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی، جس میں صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی، بلوچستان ہائیکورٹ کے جسٹس سردار احمد حلیمی، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔

گورنر بلوچستان نے کہا کہ جامعہ تربت پاکستان کی واحد یونیورسٹی ہے جہاں طلبہ کی مجموعی تعداد میں نصف سے زائد طالبات شامل ہیں، جو سماجی تبدیلی، خواتین کی تعلیم اور تعلیمی ترقی کی ایک مثبت مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی بلوچستان میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کی عکاسی کرتی ہے۔

جعفر خان مندوخیل نے جامعہ تربت کی رینکنگ اور اسکورنگ میں نمایاں بہتری کو بھی قابل تحسین قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی نے اپنی پانچ سالہ منصوبہ بندی کے تحت شاندار پیش رفت کی ہے اور اس کی کارکردگی کا اسکور 91.4 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کا کریڈٹ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن اور ان کی پوری ٹیم کو جاتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ کامیابی کا یہ سفر اختتام نہیں بلکہ مسلسل بہتری کا عمل ہے، جس کے لیے اداروں کو مزید محنت اور جدت کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ گورنر نے یونیورسٹی سینیٹ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سینیٹ ادارے کا سب سے بااختیار فیصلہ ساز فورم ہے، جس کے فیصلے شفافیت، احتساب اور ادارہ جاتی مضبوطی کو یقینی بناتے ہیں۔

طلبہ کے نام پیغام میں گورنر بلوچستان نے کہا کہ علم حاصل کرنے کا جذبہ اور مطالعے سے وابستگی نوجوانوں کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھیں کیونکہ علم ہی روشن اور کامیاب مستقبل کی بنیاد ہے۔ اجلاس میں شرکا کی تجاویز اور سفارشات کی روشنی میں جامعہ تربت کے حوالے سے متعدد اہم فیصلے بھی کیے گئے۔