بلوچستان کے ضلع چاغی میں دالبندین، تفتان ہائی وے پر قائم ایک عارضی ایکسائز چیک پوسٹ پر مسلح افراد کے حملے کے بعد تین ایکسائز اہلکاروں کو اغوا کر لیا گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق واقعہ پیر کی شام پیش آیا، جب تقریباً 30 مسلح افراد نے چیک پوسٹ کو گھیرے میں لے کر وہاں موجود اہلکاروں کو اسلحے کے زور پر قابو کیا اور انہیں اپنے ساتھ لے گئے۔
ذرائع کے مطابق حملہ آور جاتے ہوئے ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کی دو سرکاری گاڑیاں اور اسلحہ بھی اپنے ہمراہ لے گئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے، علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا اور مغوی اہلکاروں کی بحفاظت بازیابی کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔
حکام کے مطابق حملہ آوروں کی شناخت اور فرار کے راستے کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں، جبکہ سکیورٹی ادارے واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ بلوچستان میں حالیہ عرصے کے دوران سکیورٹی چیلنجز میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں دہشت گردی اور اغوا کے واقعات کے باعث قانون نافذ کرنے والے ادارے مسلسل کارروائیاں کر رہے ہیں۔
رواں ماہ بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف آپریشنز بھی جاری ہیں۔ اس سے قبل زیارت میں منگی ڈیم پمپنگ اسٹیشن پر پولیس چوکی پر حملے کے بعد سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ آپریشن شروع کیا تھا۔ اس حملے میں متعدد پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
سکیورٹی جائزہ رپورٹس کے مطابق بلوچستان حالیہ مہینوں میں دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبوں میں شامل رہا ہے، جہاں حملوں اور اغوا کے واقعات میں اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے۔ حکومت اور عسکری قیادت نے ملک میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے مشترکہ اقدامات جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔