بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں، خصوصاً جمعیت علمائے اسلام (ف) کے اراکین نے صوبے کے مختلف علاقوں میں مدارس پر چھاپوں اور مساجد کی بندش کے خلاف ایوان سے واک آؤٹ کیا اور حکومت کے اقدامات کے خلاف احتجاجی تحریک کا اعلان کر دیا۔ اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری نے مؤقف اختیار کیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں مدارس کی رجسٹریشن کے نام پر کی جا رہی ہیں، جبکہ صوبے میں موجود ہزاروں مدارس پہلے ہی رجسٹرڈ ہیں اور باقی کو بھی قانونی طریقہ کار کے تحت رجسٹر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رجسٹریشن کی مخالفت نہیں لیکن طریقہ کار قابل قبول نہیں۔
اجلاس میں صورتحال اس وقت مزید گرم ہوئی جب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے۔ اپوزیشن نے واضح کیا کہ مدارس اور مساجد کی بندش کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی اور اگر کارروائیاں جاری رہیں تو احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔ اس دوران اسپیکر نے ہوم سیکرٹری کو اسمبلی میں طلب کیا جبکہ حکومتی وزراء نے مؤقف دیا کہ مدارس کی رجسٹریشن ضروری ہے تاکہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو روکا جا سکے اور معاملات کو بات چیت سے حل کیا جائے گا۔
اجلاس میں مختلف ارکان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور دینی اداروں کے درمیان اعتماد بحال کیا جائے۔ تاہم اپوزیشن ارکان نے ایوان سے واک آؤٹ کیا جس کے بعد کچھ دیر بعد حکومتی یقین دہانی پر واپس لوٹ آئے۔
اپوزیشن نے بعد میں صوبہ گیر احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 10 مئی کو کوئٹہ میں دھرنا دیا جائے گا جس میں مدارس کی بندش کے خلاف بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔ صورتحال کے باعث بلوچستان میں سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا ہے اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مسئلہ پرامن طریقے سے حل ہو سکے۔