یورپی انویسٹمنٹ بینک (EIB) نے بلوچستان کے ریکوڈک کان کنی منصوبے سے منسلک انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے منصوبے کی معدنی پیداوار تک جزوی رسائی کی خواہش بھی ظاہر کی ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق EIB نے واضح کیا ہے کہ یورپ کو مستقبل میں اہم معدنیات کی فراہمی تک رسائی ضروری سمجھی جاتی ہے تاکہ گرین اور ڈیجیٹل ٹرانزیشن کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔
دوسری جانب وزارت توانائی کے ڈائریکٹر جنرل برائے معدنیات ڈاکٹر نواز احمد ورک نے کہا کہ پاکستان میں موجود 6 کھرب ڈالر کے معدنی ذخائر کے دعوے مبالغہ آرائی پر مبنی ہیں، تاہم ملک میں وسیع معدنی وسائل موجود ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ریکوڈک منصوبے کے ترقیاتی مرحلے میں سیلز ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس کے نفاذ پر خدشات سامنے آئے ہیں، جن پر وزارت خزانہ سے مشاورت جاری ہے تاکہ ان ٹیکسوں کو پیداوار شروع ہونے تک مؤخر کیا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق ریکوڈک منصوبے کے تحت حکومت پہلے ہی سرمایہ کاروں کو ٹیکس چھوٹ فراہم کر چکی ہے تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔
EIB کے نمائندے مارکو آریانا نے کہا کہ ادارہ پاکستان میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں کردار ادا کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے، تاہم سرمایہ کاری کے لیے پالیسی استحکام، شفاف قوانین اور کرنسی رسک جیسے عوامل اہم ہیں۔
ادھر کان کنی کمپنی بارک گولڈ نے سیکیورٹی خدشات کے باعث منصوبے کی ترقیاتی سرگرمیاں سست کر دی ہیں اور 2027 تک منصوبے کے ازسرنو جائزے کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق ریکوڈک منصوبے کی ابتدائی لاگت 5.6 سے 6 ارب ڈالر کے درمیان ہے جبکہ اس کی پہلی پیداوار 2028 کے آخر تک متوقع ہے۔
ریکوڈک کو دنیا کے سب سے بڑے غیر ترقی یافتہ تانبے اور سونے کے منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے جس میں 50 فیصد حصہ بارک گولڈ، 25 فیصد وفاقی اداروں اور 25 فیصد حکومت بلوچستان کے پاس ہے۔