30°C Sunny

پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ڈیڈلاک ختم کرنے کے لیے خاموش سفارتی کوششوں میں مصروف

ذرائع کے مطابق پاکستان پسِ پردہ سفارتکاری کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تعطل کو ختم کرنے کے لیے ایک “نئے فارمولے” کی تلاش میں سرگرم ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاہدے تک پہنچنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق دونوں فریقین پاکستان کے ذریعے بیک چینل مذاکرات میں تجاویز اور جوابی تجاویز کا تبادلہ کر رہے ہیں، جبکہ اسلام آباد کا بنیادی مقصد ایک “درمیانی راستہ” تلاش کرنا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ ایران نے ایک نئی تجویز پیش کی ہے جس میں جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے بدلے امریکی پابندیوں میں نرمی شامل ہے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پر فوری آمادگی ظاہر نہیں کی۔

مزید بتایا گیا ہے کہ ایران چاہتا ہے کہ جوہری مسئلہ اور آبنائے ہرمز کا معاملہ مرحلہ وار حل کیا جائے، جبکہ امریکہ دونوں معاملات کو بیک وقت حل کرنے پر زور دے رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور اعلیٰ عسکری قیادت بھی اس عمل میں براہ راست شامل ہیں، اور یہ سفارتی کوششیں خفیہ سطح پر جاری ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان نے اس سے قبل واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی تھی، اور فریقین کے درمیان جنگ بندی میں بھی کردار ادا کیا تھا۔

ذرائع کے مطابق اگرچہ خطے میں کشیدگی موجود ہے، لیکن فی الحال جنگ کے دوبارہ شروع ہونے کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں کیونکہ دونوں فریقین اندرونی سیاسی اور معاشی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔