32°C Sunny

بلوچستان اسمبلی اسپیکر نے اراکینِ اسمبلی کے عوامی مسائل پر رپورٹس طلب کرلیں

۹ اپریل ۲۰۲۶

کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کے اسپیکر ریٹائرڈ کیپٹن عبدالخالق اچکزئی نے اجلاس کے دوران اراکینِ اسمبلی کی جانب سے اٹھائے گئے عوامی مسائل پر متعلقہ محکموں سے رپورٹس طلب کرلی ہیں۔

اجلاس میں متعدد اراکین نے اپنے اپنے حلقوں کے مسائل پیش کیے اور حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔

اسپیکر نے محکمہ آبپاشی، انڈسٹریز اینڈ کرافٹس اور اوقاف سمیت متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ ایوان میں اٹھائے گئے معاملات پر تفصیلی رپورٹس پیش کریں۔

انہوں نے آئی جی پولیس کو بھی ہدایت دی کہ یارو واقعے میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے۔

تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ مارچ میں پشین کے علاقے یارو میں پیش آیا تھا، جہاں مبینہ طور پر ایک نوجوان نے رشتے سے انکار پر لڑکی، اس کے والد اور کزن کو قتل جبکہ لڑکی کی والدہ کو زخمی کر دیا تھا۔

اجلاس میں اراکین نے اپنے حلقوں میں مختلف مسائل بھی اٹھائے۔ بی این پی عوامی کے میر اسد اللہ بلوچ نے کہا کہ پنجگور میں سیلاب سے فصلیں تباہ ہوگئیں ہیں اور کسانوں کے لیے فوری ریلیف اقدامات کیے جائیں۔

اے این پی کے ضمرک اچکزئی نے قلعہ عبداللہ میں بارشوں سے ہونے والے نقصانات پر علاقے کو آفت زدہ قرار دینے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے پی ایس ایل اور کرکٹ انتخابی معاملات پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کھلاڑیوں کے انتخاب میں میرٹ کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

پارلیمانی سیکرٹری مجید بادینی نے نصیرآباد کے پٹ فیڈر ایریا میں 750 سے زائد غیر قانونی کنکشنز ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

رکن اسمبلی اشوک کمار نے ہب اور کراچی کے درمیان چینی کی ترسیل کے لیے محکمہ صنعت کی جانب سے 60 ہزار روپے این او سی فیس کو غیر منصفانہ قرار دیا۔

اسپیکر نے اس معاملے پر بھی سیکرٹری صنعت و تجارت سے رپورٹ طلب کرلی۔

اجلاس میں امن و امان، سیلابی صورتحال، زرعی نقصانات، عوامی سہولیات اور انتظامی معاملات پر تفصیلی بحث دیکھنے میں آئی اور اسپیکر نے تمام اہم امور پر متعلقہ اداروں سے جواب طلب کیا۔