مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگ کو روکنے میں پاکستان کی فیصلہ کن اور آخری لمحے کی سفارتی مداخلت کو اہم کردار قرار دیا جا رہا ہے۔
متعدد باخبر ذرائع کے مطابق پاکستان نے انتہائی تیز اور ہنگامی سفارتی کوششیں کرتے ہوئے واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی راہ ہموار کی، جو جنگ بندی پر منتج ہوئیں۔
رپورٹ کے مطابق صورت حال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب ایران کی جانب سے سعودی عرب میں ایک پیٹرو کیمیکل تنصیب پر حملہ کیا گیا، جس کے بعد سعودی عرب نے سخت ردعمل دیا اور پورا امن عمل خطرے میں پڑ گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن قریب آنے پر پاکستانی حکام نے دونوں فریقوں کے درمیان مسلسل رابطے قائم رکھے اور مذاکرات کو ٹوٹنے سے بچایا۔
پاکستان نے اس عمل میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی عسکری قیادت سے براہ راست رابطہ کیا۔
کئی گھنٹوں کی سخت سفارت کاری کے بعد ایران نے بغیر کسی پیشگی شرط کے عارضی جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی اور باضابطہ مذاکرات میں شامل ہونے پر آمادگی ظاہر کی۔
ذرائع کے مطابق اس پورے عمل میں پاکستان نے نہایت محتاط سفارتی توازن برقرار رکھا، ایک جانب سعودی عرب پر حملے پر ایران کو سخت پیغام دیا جبکہ دوسری جانب امریکہ پر دباؤ ڈالا کہ اسرائیل کی کارروائیوں کو محدود کیا جائے۔
پاکستان نے واشنگٹن کو خبردار کیا کہ اگر اسرائیلی حملے جاری رہے تو پورا سفارتی عمل ناکام ہو سکتا ہے۔
بالآخر اسرائیل کی کارروائیوں میں کمی کی یقین دہانی کے بعد ایران نے جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی۔
اسرائیلی حکام نے اگرچہ جنگ بندی کی مخالفت کی، تاہم امریکہ کے فیصلے کے سامنے جھک گئے۔ اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل نے ابھی تمام اہداف حاصل نہیں کیے اور ضرورت پڑنے پر فوجی کارروائی دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے۔
ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق یہ جنگ بندی مستقل امن نہیں بلکہ ایک عارضی وقفہ ہے اور اس میں ایران پر پابندیوں کے خاتمے یا کسی معاوضے کی شق شامل نہیں۔