قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے بلوچستان میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال پر غور کے لیے کوئٹہ میں تین روزہ جرگہ منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جرگہ 29 سے 31 اگست تک جاری رہے گا، جس میں صوبے کو درپیش امن و امان کے مسائل اور ان کے حل کے لیے تجاویز مرتب کی جائیں گی۔
کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ بلوچستان کی صورتحال دن بدن زیادہ سنگین اور خطرناک ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جرگے میں سیاسی رہنماؤں، قبائلی عمائدین اور دیگر متعلقہ فریقین کو شامل کیا جائے گا تاکہ صوبے میں جاری مسائل پر مشترکہ مشاورت کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ جرگے میں شاہراہوں پر حملوں، تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹوں، مال بردار گاڑیوں کو نقصان پہنچانے، ججز، وکلا، سیاسی کارکنوں اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے جیسے معاملات پر غور کیا جائے گا۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ مسلسل حملوں کے باعث بلوچستان میں کاروباری اور ٹرانسپورٹ سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں، جس سے کئی افراد کے روزگار پر منفی اثر پڑا ہے۔ انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ شہریوں، املاک اور تجارتی راستوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیوں نہیں کیے جا رہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی اور سکیورٹی مسائل کا حل صرف طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں، بلکہ مضبوط جمہوری اداروں، آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا کے ذریعے دیرپا امن قائم کیا جا سکتا ہے۔
اچکزئی نے حالیہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بلوچستان میں بسوں، ٹرکوں، آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی گاڑیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ٹرانسپورٹرز کو تحفظ فراہم نہ کیا گیا تو وہ اپنی سرگرمیاں روکنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے قومی شاہراہوں پر مال بردار گاڑیوں کے ڈرائیوروں سے مبینہ بھتہ وصولی کے معاملات پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور سکیورٹی اداروں سے ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
گاڑیوں کو پہنچنے والے نقصانات کے معاوضے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حالیہ حملوں میں جلائے گئے 14 کوئلہ بردار ٹرکوں کے مالکان کو فی گاڑی 9 لاکھ 50 ہزار روپے دینے کی پیشکش کی گئی، تاہم ٹرانسپورٹرز مکمل نقصان کے ازالے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
محمود خان اچکزئی نے سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے تین سال مکمل ہونے پر 5 اگست کو ملک گیر احتجاجی مظاہروں کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے بلوچستان کے پشتون اکثریتی علاقوں میں اضلاع کی مجوزہ تقسیم کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے فیصلے مقامی آبادی کی مشاورت سے کیے جانے چاہئیں۔
انہوں نے کوئٹہ اسلام آباد پروازوں کے زیادہ کرایوں پر بھی تنقید کی اور قبائلی لشکر بنانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ امن و امان برقرار رکھنا ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔