ترکیہ کے زیر انتظام شمالی قبرص کے قریب بحیرہ روم میں ایک مسافر بردار فیری الٹنے اور ڈوبنے کے نتیجے میں کم از کم سات افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ امدادی کارروائیوں کے دوران متعدد مسافروں کو بچالیا گیا۔ ترک سرکاری ذرائع کے مطابق فیری بندرگاہ سے روانگی کے کچھ ہی دیر بعد الٹ گئی۔ شمالی قبرص کے وزیراعظم کے مطابق جہاز میں مجموعی طور پر 267 افراد سوار تھے، جن میں مسافر اور عملے کے ارکان شامل تھے۔ اب تک 172 افراد کو بحفاظت ریسکیو کیا جاچکا ہے جبکہ باقی افراد کی تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق فیری مکمل طور پر تقریباً 514 میٹر گہرائی میں ڈوب گئی۔ حادثے کی فوری وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔ فیری شمالی قبرص کی بندرگاہ گیرنے سے ترکیہ کی بندرگاہ تاشوجو جا رہی تھی۔ ترک ٹیلی وژن پر نشر ہونے والی تصاویر میں فیری کو الٹی حالت میں پانی میں دیکھا گیا جبکہ لائف جیکٹس پہنے افراد اس کے اوپر موجود تھے اور کئی امدادی کشتیاں کارروائیوں میں شریک تھیں۔ وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ترک صدر، حکومت اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی۔ شمالی قبرص کی وزارت صحت نے ہسپتالوں کو ہنگامی صورتحال کے لیے تیار رہنے کی ہدایت بھی جاری کردی۔