پاکستان کے گوادر بندرگاہ پر سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جہاں اپریل 2026 میں تقریباً 11 ہزار کنٹینرز ہینڈل کیے گئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں واضح اضافہ ہے اور اس پیش رفت کو خطے میں ایک بڑی معاشی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور شپنگ روٹس میں رکاوٹوں کے باعث بین الاقوامی تجارتی ادارے متبادل راستوں کی تلاش میں ہیں، جس کے نتیجے میں گوادر بندرگاہ کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ بندرگاہ بحیرہ عرب اور خلیج عمان کے سنگم پر واقع ہے اور جغرافیائی طور پر عالمی تجارت کے لیے ایک اہم مقام رکھتی ہے۔
گوادر کو چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت تیار کیا گیا ہے اور یہ وسطی ایشیا اور مغربی چین تک تجارتی رسائی کے لیے ایک مکمل متبادل روٹ کے طور پر ابھر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اپریل 2026 میں مختلف تجارتی جہازوں کے ذریعے ہزاروں ٹن سامان بشمول مشینری اور کھاد گوادر پہنچایا گیا، جبکہ پہلے اس بندرگاہ پر سالانہ محدود تعداد میں جہاز آتے تھے۔
ماہرین کے مطابق یہ اضافہ وقتی نہیں بلکہ ایک ساختی تبدیلی کا آغاز ہے، جو پاکستان کی معیشت اور خطے میں اس کی تجارتی حیثیت کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ سی پیک کے تحت گوادر میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی، بشمول نیا بین الاقوامی ایئرپورٹ اور جدید لاجسٹکس سہولیات، اس بندرگاہ کو خطے کے بڑے تجارتی مرکز میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔