بلوچستان حکومت نے صوبے میں مجموعی سیکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے اغوا برائے تاوان کے بڑھتے ہوئے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ اجلاس صوبائی وزیر داخلہ ضیاء اللہ لانگو کی زیر صدارت منعقد ہوا۔
اجلاس میں صوبائی حکومت کی جانب سے حال ہی میں متعارف کرائی گئی “ہیڈ منی پالیسی” پر بھی غور کیا گیا، جس کا مقصد انتہائی مطلوب دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کی گرفتاری کو یقینی بنانا ہے۔
اجلاس میں صوبائی وزیر تعلیم رحیلہ درانی، ڈی آئی جی کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) عتزاز احمد گورایا اور محکمہ داخلہ کے سینئر حکام نے شرکت کی۔ شرکاء کو صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور جاری اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
حکام کے مطابق اجلاس میں موجودہ سیکیورٹی حالات، پالیسی پر عملدرآمد اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ خاص طور پر اغوا برائے تاوان کے واقعات میں اضافے کو ایک اہم مسئلہ قرار دیا گیا۔
صوبائی وزیر داخلہ ضیاء اللہ لانگو نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان حکومت کی اولین ترجیح امن و امان کی بحالی ہے اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ حکومتی فیصلوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کی جان و مال کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔ اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ سیکیورٹی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی تیز کی جائے۔